زندگی امتحان لیتی ہے۔ محرومی، حق تلفی اور ناانصافی جیسی معاشرتی ناہمواری انسان کے لئے ایک اذیت ناک کڑی آزمائش ہے جس میں کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جس کا عقیدہ راسخ، نیت شفاف اور عزم غیر متزلزل ہوتا ہے۔ وقت کے ایک بے رحم، سفاک کروٹ نے اس کے جیون میں زہر گھول دیا تھا۔ ناکردہ جرم کی پاداش میں اس کا لڑکپن اور جوانی قید و بند کی صعوبتوں کی نذر ہوگئی تھی۔ زمانہ اسیری نے ایک طرف اس کی دل و دماغ پر صدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے تھے تو دوسری جانب اسی دوران میں اس نے علم و ہنر کا ایسا بحر بے کنار اپنے وجود میں سمیٹ لیا تھا جس کے حصول کے لئے بیرونی دنیا کے تعلیمی و تربیتی ادارے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ اس نے آزاد عملی میدان میں قدم رکھا تو نت نئے دشمنوں سے اس کا سابقہ پڑا۔ جلد ہی اس پر منکشف ہوا کہ خالق نے اسے زمینی خداؤں کی سرکوبی کے لئے تخلیق کیا ہے۔ مقصد حیات واضح ہوا تو اس نے خود کو منشائے قدرت کے سامنے سرنگوں کردیا۔ اس کارزارِ فنا و بقا کی آبلہ پا جدوجہد میں ایک دلنشیں مہ جبیں بھی اس کی رفیق سفر تھی۔ مقامی مسائل کی پروردہ غم وغصے کی یہ بے قابو شوریدہ سر لہر دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی بساط پر یہود کے دیرینہ خواب قیام سلطنت داؤدی "تھرڈ ٹیمپل" کی راہ میں ایک رکاوٹ بن کر کھڑی ہوگئی۔
داستان: "دھر"
حصہ دوئم...
ادھر بابر بخاری نے "کیو" دیا، ادھر مارک فور نے آنکھ کھول لی۔ اگلے ہی لمحے بنگلے کے اندرونی حصے کو برآمدے سے ملانے والا کنگ سائز منقش چوبی دروازہ ایک دھماکے سے ٹوٹا اور فلم کا ویلن فیروز ٹوٹے ہوئے دروازے میں سے اس طرح برآمد ہوا جیسے کسی توپ میں سے گولا نکلتا ہے۔
کیمرا مین فضل شاہ ٹیلی فلم کے اختتامی مناظر کو بڑی مستعدی اور مہارت کے ساتھ مارک فور کے ایک سو اٹھائیس جی بی کمپیکٹ فلیش کارڈ پر محفوظ کرنے میں مصروف ہو گیا۔ بابر بخاری برآمدے کے دور افتادہ کونے میں مانیٹر کے سامنے بیٹھا اس فلم بندی کا جائزہ لے رہا تھا ۔ ایک ایک موومنٹ پر اس کی گہری نگاہ تھی۔
فیروز ابھی فرش سی اٹھنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا کہ ہیرو آندھی و طوفان کی رفتار سے اس کے سر پر پہنچ گیا۔ ہیرو (دانیال) بے پناہ غصے میں دکھائی دیتا تھا۔ اس نے فیروز کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور ایک زوردار ٹھڈا اس کے منہ پر رسید کردیا۔ جس کے نتیجے میں فیروز لڑھکتے ہوئے ایک جانب چلا گیا تھا۔
وائڈ اینگل فل فریم مارک فور کے موجودہ فریم کی حدود کے بارے میں ہیرو اور ولن کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا تھا۔ انہوں نے شوٹ سے پہلے لوٹیں لگا کر اچھی خاصی ریہرسل بھی کرلی تھی لہٰذا کیمرا مین اور ڈائریکٹر مطمئن تھے۔
بابر بخاری کا اطمینان اس وقت غارت ہو کر رہ گیا جب فیروز اٹھ کر کھڑا ہوا۔ مانیٹر پر فیروز کا چہرہ لہو لہان دکھائی دے رہا تھا۔ دانیال کے ٹھڈے نے فیروز کی ناک سے خون چھڑا دیا تھا۔ اس نوعیت کی اصلی مار پیٹ اسکرپٹ کا حصہ نہیں تھی۔ سیٹ پر موجود ٹیکنیکل اسٹاف دم بہ خود ہو کر رہ گیا۔ سب سے زیادہ متوحش بابر بخاری تھا۔
حیرت و تجسس کی تہہ میں چھپی اس داستان کے باقی واقعات اگلے قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں