امیر مینائی کے حالات زندگی
اصلی نام : امیر احمد
تخلص :امیرٓ
پیدائش : ۲۱ فروری، ۱۸۲۸ء لکھنؤ، اتر پردیش بھارت
وفات : ۱۳ اکتوبر، ۱۹۰۰ء حیدر آباد دکن، تلنگانہ
امیر مینائی کا نام امیر احمد تھا اور وہ نواب نصیر الدین حیدر کے عہد میں ۲۱ فروری، ۱۸۲۸ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی کرم احمد تھے اور دادا مشہور بزرگ مخدوم شاہ مینا کے حقیقی بھائی تھے۔ اسی لئے وہ مینائی کہلائے۔ امیر مینائئی نے شروع میں اپنے بڑے بھای حافظ عنایت حسین اور اپنے والد سے تعلیم پائی۔ اور اس کے بعد مفتی سعد اللہ مرادآبادی سے فارسی عربی اور ادب میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے علمائے فرنگی محل سے بھی فقہ و اصول م کی تعلیم حاصل کی لیکن ان کا اپنا کہنا ہے کہ علوم متداولہ کی تکمیل ان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ان کو شاعری کا شوق بچپن سے تھا پندرہ سال کی عمر میں منشی مظفر علی اسیر کے شاگرد ہو گئے جو اپنے زمانہ کے مشہور شاعر اور ماہر عروض تھے۔ اس زمانہ میں لکھنو میں شاعری کا چرچا عام تھا۔ آتش و ناسخ اور اس کے بعد انیس و دبیر کی معرکہ آرائیوں نے شاعری کے ماحول کو گرم کر رکھا تھا۔ رند، خلیل، صبا، نسیم، بحر اور رشک وغیرہ کی زمزمہ سنجیاں سن کر امیر کا شوق شاعری چمک اٹھا۔ اور وہ جلد ہی لکھنؤ اور اس کے باہر مشہور ہو گئے۔ امیر کے کلام اور ان کے کمال کی تعریفیں سن کر ۱۸۵۲ء میں نواب واجد علی شاہ نے ان کو طلب کیا اور ۲۰۰ روپے ماہانہ پر اپنے شہزادوں کی تعلیم کا کام ان کے سپرد کر دیا لیکن ۱۸۵۶ء میں انگریزوں نے اودھ پر قبضہ کر لیا تو یہ نوکری جاتی رہی اور امیر گوشہ نشین ہو گئے۔ پھر اگلے ہی سال غدر کا ہنگامہ برپا ہوا جس میں ان کا گھر تباہ ہو گیا، اور ساتھ ہی ان کا پہلا مجموعہ بھی ضائع ہو گیا تب امیر کاکوری چلے گئے اور وہاں ایک سال قیام کرنے کے بعد کانپور ہوتے ہوئے میر پور پہنچے۔ جہاں ان کے خسر شیخ وحید الدین ڈپٹی کلکٹر تھے۔ ان کی سفارش پر نواب رامپور یوسف علی خاں ناظم نے ان کو طلب کیا اورعدالت دیوانی کے رکن اور مفتی شرع کی حیثیت سے ان کا تقرر کر دیا۔ اس کے بعد ۱۸۶۵ء میں، جب نواب کلب علی خاں مسند نشین ہوے تو مطبع، خبر رسانی اور مصاحبت کے فرایض بھی ان کے ذمّہ ہو گئے۔ نواب نے ۲۱۶ روپیہ ان کا وظیفہ مقرر کیا۔ ۱۸۹۹ میں جب نظام کلکتہ سے دکن واپس جا رہے تھے تو داغ کی تحریک سے ان کی ملاقات نظام سے ہوئی اور ان کا مدحیہ قصیدہ سن کر نظام بہت خوش ہوئے اور ان کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی۔ امیر بھوپال ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچے لیکن جاتے ہی ایسے بیمار ہوئے کہ پھر نہ اٹھ سکے اور وہیں ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۰ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔
تخلص :امیرٓ
پیدائش : ۲۱ فروری، ۱۸۲۸ء لکھنؤ، اتر پردیش بھارت
وفات : ۱۳ اکتوبر، ۱۹۰۰ء حیدر آباد دکن، تلنگانہ
امیر مینائی کا نام امیر احمد تھا اور وہ نواب نصیر الدین حیدر کے عہد میں ۲۱ فروری، ۱۸۲۸ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی کرم احمد تھے اور دادا مشہور بزرگ مخدوم شاہ مینا کے حقیقی بھائی تھے۔ اسی لئے وہ مینائی کہلائے۔ امیر مینائئی نے شروع میں اپنے بڑے بھای حافظ عنایت حسین اور اپنے والد سے تعلیم پائی۔ اور اس کے بعد مفتی سعد اللہ مرادآبادی سے فارسی عربی اور ادب میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے علمائے فرنگی محل سے بھی فقہ و اصول م کی تعلیم حاصل کی لیکن ان کا اپنا کہنا ہے کہ علوم متداولہ کی تکمیل ان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ان کو شاعری کا شوق بچپن سے تھا پندرہ سال کی عمر میں منشی مظفر علی اسیر کے شاگرد ہو گئے جو اپنے زمانہ کے مشہور شاعر اور ماہر عروض تھے۔ اس زمانہ میں لکھنو میں شاعری کا چرچا عام تھا۔ آتش و ناسخ اور اس کے بعد انیس و دبیر کی معرکہ آرائیوں نے شاعری کے ماحول کو گرم کر رکھا تھا۔ رند، خلیل، صبا، نسیم، بحر اور رشک وغیرہ کی زمزمہ سنجیاں سن کر امیر کا شوق شاعری چمک اٹھا۔ اور وہ جلد ہی لکھنؤ اور اس کے باہر مشہور ہو گئے۔ امیر کے کلام اور ان کے کمال کی تعریفیں سن کر ۱۸۵۲ء میں نواب واجد علی شاہ نے ان کو طلب کیا اور ۲۰۰ روپے ماہانہ پر اپنے شہزادوں کی تعلیم کا کام ان کے سپرد کر دیا لیکن ۱۸۵۶ء میں انگریزوں نے اودھ پر قبضہ کر لیا تو یہ نوکری جاتی رہی اور امیر گوشہ نشین ہو گئے۔ پھر اگلے ہی سال غدر کا ہنگامہ برپا ہوا جس میں ان کا گھر تباہ ہو گیا، اور ساتھ ہی ان کا پہلا مجموعہ بھی ضائع ہو گیا تب امیر کاکوری چلے گئے اور وہاں ایک سال قیام کرنے کے بعد کانپور ہوتے ہوئے میر پور پہنچے۔ جہاں ان کے خسر شیخ وحید الدین ڈپٹی کلکٹر تھے۔ ان کی سفارش پر نواب رامپور یوسف علی خاں ناظم نے ان کو طلب کیا اورعدالت دیوانی کے رکن اور مفتی شرع کی حیثیت سے ان کا تقرر کر دیا۔ اس کے بعد ۱۸۶۵ء میں، جب نواب کلب علی خاں مسند نشین ہوے تو مطبع، خبر رسانی اور مصاحبت کے فرایض بھی ان کے ذمّہ ہو گئے۔ نواب نے ۲۱۶ روپیہ ان کا وظیفہ مقرر کیا۔ ۱۸۹۹ میں جب نظام کلکتہ سے دکن واپس جا رہے تھے تو داغ کی تحریک سے ان کی ملاقات نظام سے ہوئی اور ان کا مدحیہ قصیدہ سن کر نظام بہت خوش ہوئے اور ان کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی۔ امیر بھوپال ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچے لیکن جاتے ہی ایسے بیمار ہوئے کہ پھر نہ اٹھ سکے اور وہیں ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۰ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں