اسرار الحسن خان

اسرار الحسن کے بہترین فلمی گیت اور زندگی کے آخری ایام 

"فلم شاہ جہاں" سے لے کر کئی فلموں میں مجروح نے کامیاب گیت دیئے۔ فلم ’’شاہ جہاں‘‘ کا وہ نغمہ جس کو، کے ایل سہگل صاحب نے گایا تھا۔ جس کو آج بھی لوگ سنتےاور محظوظ ہوتے ہیں۔ اس مشہور نغمے کے بول اس طرح ہیں:

غم دیئے مستقل کتنا نازک ہے دل
یہ نہ جانا ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ

کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا
ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

مجروح سلطان پوری نے فلم ’’دوستی‘‘ کے لئے بھی کامیاب گیت دیئے جس کو مشہور گایک محمد رفیع صاحب نے اپنی درد بھری آواز میں گایا تھا جو آج بھی اپنا اثر رکھتے ہیں اس مشہور گیت کے بول اس طرح ہیں:

راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے
پھر بھی کبھی اب نام کو تیرےآواز میں نہ دوں گا

فلم ’’انداز‘‘ میں بھی مجروح نے کامیاب گیت دیئے ہیں۔ جو آج بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔ مجروح سلطان پوری کی شادی 1946ء میں ہوئی بیوی، لکھنؤ کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کا نام فردوس گل تھا مجروح کو ان سے پانچ اولادیں ہوئیں جن میں پہلے تین لڑکیاں ہیں ان کے بعد دو لڑکے ہوئے۔لڑکیوں کے نام نوگل، نوبہار اور صبا ہیں لڑکوں کے نام ارم اور عندلیب ہیں۔ بمبئی میں مجروح کی ملاقات اس دور کے نوجوان ترقی پسند شعراء، ادیب اور فنکارور سردار جعفری، کیفی اعظمی، سجاد ظہیر، ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر، احسان دانش اور مشہور افسانہ نگار کرشن چندر سے ہوئی سبھی لوگ مجروح کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے۔ مجروؔح کا شمار اردو کے سرکردہ غزل گو شعراء میں ہوتا ہے مرزا غالب کے بعد اردو غزل انحطاط کا شکار ہوگئی تھی۔ جس کی وجہ سے حالی نے غزل کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی اصلاح کی تجاویز پیش کیں جدید نظم کی تحریک نے اس دور میں غزل کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا۔ مجروؔح اور ان کے معاصرین نے اس صنف سخن کا احیاء کیا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اسے وقار اور اعتبار بخشا۔ مجروؔح کو اپنے ہم عصروں میں ایک امتیاز حاصل ہے کہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے فنکار اور ایک بلند پایہ شاعر و نغمہ نگار ہیں۔ ان کا انداز بیان بھی سب سے الگ اور سب سے منفرد ہے جس کی وجہ سے جدید غزل گو شعراء میں سر بلند مانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کے موضوعات، سیاسی، سماجی اور عشقیہ ہیں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، کیف و سرمتی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ ان سے اشعار حیثیت کے رازداں معلوم ہوتے ہیں انہوں نے بے شمار اشعار تخلیق کئے ہیں جس کا پوری اردو شاعری میں جواب نہیں ہے۔ 1952ء میں مجروح سلطان پوری کا مجموعہ کلام ’’غزل‘‘ کے نام سے پہلی بار شائع ہوا یہ مجموعہ ان کے دوسرے دور کے آخری حصہ اور تیسرے دور کی یاد گار ہے۔ دسمبر 1982ء تک اس کے 6 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ مجروح سلطان پوری کی تقریباً 55 سالہ شعری زندگی کو سامنے رکھیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کا کلام اختصار کے باوجود اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ غزل جیسی روایتی صنف سخن میں ایک دلکش اور منفرد اسلوب کی بنیاد ڈالی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا سرمایہ شعر بہت مختصر ہے۔ لیکن سارا کلام انتخاب معلوم ہوتا ہے اور اس میں خود ان کے حسن انتخاب کو بھی بڑا دخل ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں بھرتی کا یا تیسرے درجہ کا کوئی شعر نہیں ملتا۔ ’’مجروح وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے غزل کی صنف کو ترقی پسندانہ نظریہ ادب کے مطابق سیاسی اور سماجی مسائل کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ مجروؔح سلطان پوری کی شاعرانہ عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ ایک مشہور اور کامیاب شاعر اور نغمہ نگار ہونے کے علاوہ وہ ایک خوددار اور خدا ترس انسان تھے۔ ہمدردی، مروت، اعلیٰ اخلاق، انسان دوستی اور حب الوطنی ان کے خاص جوہر تھے۔ مجروح ملک میں ’’سبز انقلاب‘‘ کے آرزو مند تھے وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان پھر سے امن و امان کا گہوارہ بنے اور ملک خوب ترقی کرے۔ اور دنیا سے تشدد، ظلم اور بربریت کا خاتمہ ہو اور ہر طرح امن و بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام عام ہو۔ مجروح سلطان پوری ایک شخص اور شاعر کا نام نہیں بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو کے سبھی نقادوں نے مجروح کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ مجروؔح کی شخصیت کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک عظیم شاعر اور مشہور گیت کار ہونے کے باوجود ہر ایک سے ملتے تھے اور غریبوں سے اکڑتے نہ تھے جہاں بھی موقع ملتا وہ یتیموں، مظلوموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ اور ان کی طبیعت میں غرور، تکبر اور اکڑ نام کو نہ تھی۔ سادگی اور ہمدردی ان کے خاص جوہر تھے۔ یہ تھا شائستہ تہذیبی ورثہ جس کے مجروح تنہا وارث تھے مجروح نے اپنی شاعری سے آدمیت کو انسانیت کا درس دیا ہے نیک دل انسان اور شاعر پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ مجروح نے فلمی دنیا سے وابستہ ہوکر بھی اردو زبان و ادب اور شاعری کی گراں بہا خدمات انجام دیں اور اپنی محنت اور لگن سے شائقین کو بے شمار کامیاب گیت دیئے اور اپنی زندگی میں دولت، شہرت اور عزت حاصل کی ہے جو ایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ مجروح سلطان پوری کی شہرت جتنی بمبئی میں تھی، اتنی ہی شہرت حیدرآباد میں تھی اور حیدرآباد کے شائقین پر مجروح کی شاعری اور ان کے نغموں کا جادو چل چکا تھا۔ مجروح کے چاہنے والوں کا حلقہ بہت وسیع تھا اورآخری دم تک ادب کی بے پناہ خدمت کرتے رہے۔ افسوس کہ موت نے انہیں زیادہ قیام کی مہلت نہ دی اور انہوں نے 24 اور 25 مئی 2000ء کی درمیانی شب بمبئی میں آخری سانس لی اور اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اردو زبان و ادب اور شاعری کی یہ شمع جو سلطان پور (یوپی) میں روشن ہوئی تھی وہ بمبئی میں ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں