اسرار الحسن خان صاحب کے حالات زندگی
نام : اسرارالحسن خان
تخلص : مجروح
ولادت : 01/ اکتوبر 1919ء سلطان پور اترپردیش
وفات : 24 / مئی 2000ء ممبئی بھارت
اردو کے ممتاز ترقی پسند شاعر مجروحؔ سلطان پوری کا اصل نام اسرار الحسن خاں تھا۔ مجروحؔ تخلص کرتے تھے۔ مجروحؔ یکم؍اکتوبر 1919ء کو اترپردیش کے ضلع سلطان پور میں قصبہ کجہڑی میں پیدا ہوئے۔ مجروحؔ کےوالد سرکاری ملازم تھے۔ مجروح اپنے والدین کی اکیلی اولاد تھے۔ اس لئے خاصے لاڈ پیار سے پالے گئے۔ مجروح کے والد خلافت تحریک سے بہت متاثر تھے۔ مجروح کا آبائی وطن ضلع سلطان پور (یوپی) ہے۔ والد محمد حسین خان بسلسلہ ملازمت قصبہ نظام آباد (ضلع اعظم گڑھ) میں قیام پزیر تھے۔ مجروح کی ابتدائی تعلیم اعظم گڑھ میں ہوئی۔ انہوں نے دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ طبابت (طب) کی سند بھی حاصل کی۔ اس زمانے میں انہیں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ 1940ء میں انہوں نے پہلی غزل کہی تھی۔ جس کا مطلع
یہ تھا۔
چشم تر ، لب خشک ، آہ و زاریاں
رنگ پر ہیں ان کی فتنہ کاریاں
یہ غزل انہوں نے سلطان پور کے ادبی مشاعرے میں سنائی تو ہر طرف دھوم مچ گئی۔ اور لوگوں نے بہت پسند کیا اور خوب داد دی۔ دوستوں نے ہمت افزائی کی اور مجبور کیا کہ وہ شعر گوئی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اس دور میں ہر طرف مشاعروں کی گرم بازاری تھی اور خود سلطان پور میں آئے دن کوئی نہ کوئی مشاعرہ ہر ہفتے منعقد ہوا کرتا تھا۔ مجروح ان مشاعروں میں شریک ہونے لگے اور اپنا کلام سنانے لگے۔ اس طرح ان کی شہرت کا آغاز سلطان پور سے ہوا چنانچہ شاعری کے اس شغف نے انہیں پیشہ طب سے دور کردیا۔ مجروح سلطان پوری، مشاعرہ لوٹنے والی شاعری سے دور رہے۔ انہوں نے مشاعروں میں اپنے معیاری کلام سے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنا شعری مزاج سامعین تک پہنچانا چاہتے تھے۔ اور یہ بھی کہ انہیں تحسین ناشناس سے کوئی سروکار نہ تھا۔ مجروح اپنی غزلوں اور نظموں پر مولانا آسؔ لکھنؤی سے اصلاح لی تھی۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ پسند نہ آنے کی وجہ سے یہ سلسلہ دراز نہ ہوا۔ 1941ء کے بعد سے مجروح نے اپنے کلام پر کسی سے اصلاح نہیں لی اپنے ذاتی مطالعہ اور محنت سے شاعری میں بڑا نام کمایا۔ اور اپنے عہد کو متاثر کیا۔ جگر مراد آبادی اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’میاں جیسے انسان بنوگے ویسے ہی شاعر بنوگے۔‘‘ مجروح کہتے ہیں کہ ان کی یہ بات بالکل صحیح نہ سہی مگر بڑی حد تک درست ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ مجروح نے جگر مرادآبادی کی یہ بات اپنی گرہ میں باندھ لی تھی جو ہمیشہ ان کے پیش نظر رہی۔ 1943ء میں ایک ادبی مشاعرہ منعقد ہواجس میں ملک کےنامور شعراء اورادیبوں نے شرکت کی تھی۔ دوستوں کے اصرار پر مجروح نے بھی مشاعرے میں شرکت کی اور اپنا کلام سنایا، مجروح کا کلام بہت پسند کیا گیا اور انہیں خوب داد ملی۔ مجروح کی ملاقات علی گڑھ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی سے ہوئی رشید صاحب بھی مجروح کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے اور مجروح دو سال تک ان کی صحبت میں رہے۔ 1945ء میں بمبئی کے ایک بڑا ادبی مشاعرہ منعقدہ ہوا جس میں ملک کے نامور شعراء، ادیب اور فنکاروں نے حصہ لیا، اور اس میں جگر مراد آبادی کے ساتھ مجروح بھی شریک ہوئے، لوگوں نے مجروح کے کلام کو بہت پسند کیا اور اس مشاعرے میں اس دور کے مشہور فلم ڈائریکٹر اے آر کاردار بھی شریک تھے انہوں نے جگر صاحب سے اپنی فلم ’’شاہ جہاں‘‘ کیلئے گیت لکھنے کی فرمائش کی۔ مگر جگر صاحب نے معذرت چاہی اور اس کام کیلئے مجروح کو پیش کردیا جگر صاحب کے اصرار پر ہی مجروح نے یہ کام قبول کیا اور یہی ان کا مستقل ذریعہ معاش بن گیا۔ اور وہ مستقل طور پر بمبئی آگئے رفتہ رفتہ مجروح کا شمار فلمی دنیا کے کامیاب شاعروں اور گیت کاروں میں ہونے لگا۔ اپنی ابتدائی زندگی کے زمانے ہی سے مجروح نے بے شمار کامیاب گیت دیئے جس کی وجہ سے لوگ ان کے نام اور کام سے واقف ہوگئے۔ اور ان کی شہرت ملک کے کونے کونے تک پھیل گئی۔ فلمی گیتوں میں مجروح نے ادبی معیار کو برقرار رکھا اور اس طرح فلمی نغموں کے معیار کو بھی بلند کیا۔ فلمی گیت کار کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دینے پر انہیں گراں قدر "دادا صاحب پھالکے ایوارڈ" اور ادبی خدمات کے صلہ میں "اقبال سمان" سے نوازا گیا۔
تخلص : مجروح
ولادت : 01/ اکتوبر 1919ء سلطان پور اترپردیش
وفات : 24 / مئی 2000ء ممبئی بھارت
اردو کے ممتاز ترقی پسند شاعر مجروحؔ سلطان پوری کا اصل نام اسرار الحسن خاں تھا۔ مجروحؔ تخلص کرتے تھے۔ مجروحؔ یکم؍اکتوبر 1919ء کو اترپردیش کے ضلع سلطان پور میں قصبہ کجہڑی میں پیدا ہوئے۔ مجروحؔ کےوالد سرکاری ملازم تھے۔ مجروح اپنے والدین کی اکیلی اولاد تھے۔ اس لئے خاصے لاڈ پیار سے پالے گئے۔ مجروح کے والد خلافت تحریک سے بہت متاثر تھے۔ مجروح کا آبائی وطن ضلع سلطان پور (یوپی) ہے۔ والد محمد حسین خان بسلسلہ ملازمت قصبہ نظام آباد (ضلع اعظم گڑھ) میں قیام پزیر تھے۔ مجروح کی ابتدائی تعلیم اعظم گڑھ میں ہوئی۔ انہوں نے دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ طبابت (طب) کی سند بھی حاصل کی۔ اس زمانے میں انہیں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ 1940ء میں انہوں نے پہلی غزل کہی تھی۔ جس کا مطلع
یہ تھا۔
چشم تر ، لب خشک ، آہ و زاریاں
رنگ پر ہیں ان کی فتنہ کاریاں
یہ غزل انہوں نے سلطان پور کے ادبی مشاعرے میں سنائی تو ہر طرف دھوم مچ گئی۔ اور لوگوں نے بہت پسند کیا اور خوب داد دی۔ دوستوں نے ہمت افزائی کی اور مجبور کیا کہ وہ شعر گوئی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اس دور میں ہر طرف مشاعروں کی گرم بازاری تھی اور خود سلطان پور میں آئے دن کوئی نہ کوئی مشاعرہ ہر ہفتے منعقد ہوا کرتا تھا۔ مجروح ان مشاعروں میں شریک ہونے لگے اور اپنا کلام سنانے لگے۔ اس طرح ان کی شہرت کا آغاز سلطان پور سے ہوا چنانچہ شاعری کے اس شغف نے انہیں پیشہ طب سے دور کردیا۔ مجروح سلطان پوری، مشاعرہ لوٹنے والی شاعری سے دور رہے۔ انہوں نے مشاعروں میں اپنے معیاری کلام سے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنا شعری مزاج سامعین تک پہنچانا چاہتے تھے۔ اور یہ بھی کہ انہیں تحسین ناشناس سے کوئی سروکار نہ تھا۔ مجروح اپنی غزلوں اور نظموں پر مولانا آسؔ لکھنؤی سے اصلاح لی تھی۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ پسند نہ آنے کی وجہ سے یہ سلسلہ دراز نہ ہوا۔ 1941ء کے بعد سے مجروح نے اپنے کلام پر کسی سے اصلاح نہیں لی اپنے ذاتی مطالعہ اور محنت سے شاعری میں بڑا نام کمایا۔ اور اپنے عہد کو متاثر کیا۔ جگر مراد آبادی اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’میاں جیسے انسان بنوگے ویسے ہی شاعر بنوگے۔‘‘ مجروح کہتے ہیں کہ ان کی یہ بات بالکل صحیح نہ سہی مگر بڑی حد تک درست ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ مجروح نے جگر مرادآبادی کی یہ بات اپنی گرہ میں باندھ لی تھی جو ہمیشہ ان کے پیش نظر رہی۔ 1943ء میں ایک ادبی مشاعرہ منعقد ہواجس میں ملک کےنامور شعراء اورادیبوں نے شرکت کی تھی۔ دوستوں کے اصرار پر مجروح نے بھی مشاعرے میں شرکت کی اور اپنا کلام سنایا، مجروح کا کلام بہت پسند کیا گیا اور انہیں خوب داد ملی۔ مجروح کی ملاقات علی گڑھ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی سے ہوئی رشید صاحب بھی مجروح کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے اور مجروح دو سال تک ان کی صحبت میں رہے۔ 1945ء میں بمبئی کے ایک بڑا ادبی مشاعرہ منعقدہ ہوا جس میں ملک کے نامور شعراء، ادیب اور فنکاروں نے حصہ لیا، اور اس میں جگر مراد آبادی کے ساتھ مجروح بھی شریک ہوئے، لوگوں نے مجروح کے کلام کو بہت پسند کیا اور اس مشاعرے میں اس دور کے مشہور فلم ڈائریکٹر اے آر کاردار بھی شریک تھے انہوں نے جگر صاحب سے اپنی فلم ’’شاہ جہاں‘‘ کیلئے گیت لکھنے کی فرمائش کی۔ مگر جگر صاحب نے معذرت چاہی اور اس کام کیلئے مجروح کو پیش کردیا جگر صاحب کے اصرار پر ہی مجروح نے یہ کام قبول کیا اور یہی ان کا مستقل ذریعہ معاش بن گیا۔ اور وہ مستقل طور پر بمبئی آگئے رفتہ رفتہ مجروح کا شمار فلمی دنیا کے کامیاب شاعروں اور گیت کاروں میں ہونے لگا۔ اپنی ابتدائی زندگی کے زمانے ہی سے مجروح نے بے شمار کامیاب گیت دیئے جس کی وجہ سے لوگ ان کے نام اور کام سے واقف ہوگئے۔ اور ان کی شہرت ملک کے کونے کونے تک پھیل گئی۔ فلمی گیتوں میں مجروح نے ادبی معیار کو برقرار رکھا اور اس طرح فلمی نغموں کے معیار کو بھی بلند کیا۔ فلمی گیت کار کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دینے پر انہیں گراں قدر "دادا صاحب پھالکے ایوارڈ" اور ادبی خدمات کے صلہ میں "اقبال سمان" سے نوازا گیا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں