مولانا ابو الکلام آزاد کی زندگی کے دلچسپ حقائق
مولانا ابو الکلام آزاد برصغیر کی مسلم روایت میں ایک ایسا نام ہیں کہ جن میں تمام کمالات جمع ہوگئے تھے۔ صحیح معنوں میں نابغہ کا عنوان ان پر جچتا ہے۔ ایسا بہت کم ہے کہ ایک شخص ہر علم میں اجتہاد کو پہنچا ہو۔ ادبی حوالے سے دیکھا جائے تو شاعری میں جو امتیاز غالب کا ہے، نثر میں یہی امتیاز ابو الکلام کا ہے۔ انسان حیران ہوتا ہے، ایک شخص جس کی مادری زبان عربی ہو، وہ اتنی باشکوہ اردو کیسے بول سکتا ہے۔ چونکہ آپ تقسیم کے خواہاں نہیں تھے، اس لیے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک ہمارے ہاں ان کی محض بازاری الفاظ سے مخالفت ہی ہوتی آئی ہے۔ ایک عرصے تک میں خود بھی ان سے کتراتا رہا۔ البتہ جب ان کا مطالعہ کیا تو پھر ان کے بعد کسی اور کو پڑھنا پھیکا محسوس ہوا۔ بعض پہلوؤں میں نظری مخالفت سبب نہیں بن سکتی کہ ہم کسی شخصیت کے اوصاف و کمالات سے انکار کردیں۔ ہم چھوٹے ہوگئے کیونکہ بڑی چیزوں کی ستائش کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ مولانا کی شخصیت انقلاب آور، حریتِ فکر و عمل، ظلم ستیزی، سامراج مخالف، تحقیق پسندی، ایمان و ایقان اور سچ پر ڈٹ جانے والے عوامل سے سینچی ہوئی تھی۔ برصغیر کی مسلم روایت میں آپ جیسا دماغ رکھنے والے کم ہی لوگ تھے۔ تقسیم سے پہلے مسلمانانِ ہند نے آپ کو امام الھند کا لقب دیا۔ تقسیم کے بعد بھی ہندوستان میں بچ جانے والے مسلمانوں کا آپ سہارا بنے اور انہیں خوف کی فضا سے نکال کر مختلف میدانوں میں اپنا وجود منوانے پر قادر بنایا۔ آج آپ کی ہر تصنیف پڑھنا چاہیے۔ آپ واحد شخصیت ہیں جن کے اقوال کو اقوالِ زرّیں کہا جاسکتا ہے۔ آپ کا نام آتے ہیں، میری روح سرشار ہوجاتی ہے۔ خدا آپ کی روح کو شاد فرمائے۔ آمین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں