فارغ بخاری صاحب کے حالات زندگی
فارغ بخاری ۱۱، نومبر، ۱۹۱۷ء کو پشاور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا۔ فارغ بخاری جس اسکول میں پڑھتے تھے اس کے پرنسپل، تحریک خاکسار کے بانی عنایت اللہ خاں مشرقی تھے، ان کی تربیت علامہ عنایت اللہ مشرقی جیسی قد آور شخصیت کے زیرِ سایہ ہوئی تھی۔ ابتدا ہی سے ادب کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ فارغ بخاری نے رضا ہمدانی کے ہمراہ رسالہ سنگ میل نکالا۔ ہندکو رائٹرز سوسائٹی جب قائم ہوئی تو فارغ بخاری کو اس سوسائٹی کا پہلا صدر چنا گیا۔ انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین صوبہ سرحد، عالمی امن کمیٹی کے سیکریٹری کے علاوہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی مرکزی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے رضا ہمدانی کے ہمراہ پشتو زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے بیش بہا کام کیا۔ وہ رضا ہمدانی اور اولیں ناشر اعلانِ قیام پاکستان مصطفیٰ علی ہمدانی کے بہنوئی تھے۔ فارغ بخاری نے اردو کی ادبی صحافت میں بھی اہم کردار اداکیا۔ وہ ماہنامہ "نغمۂ حیات" اور ہفت روزہ "شباب" کے مدیر رہے۔ فارغ بخاری کی مطبوعات کے نام یہ ہیں۔
"زیروبم"
"شیشے کے پیرہن"
"خوشبو کا سفر"
"غزلیہ"
"ادبیات سرحد"
"پشتو کے لوک گیت"
"سرحد کے لوک گیت"
"باچا خان"
"پشتو شاعری"
"رحمان بابا کے افکار"
"جرأت عاشقاں"
فارغ بخاری کو ان کی ادبی اور ثقافتی خدمات کے لئے حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔ فارغ بخاری ۱۳، اپریل، ۱۹۹۷ء کو پشاور، پاکستان میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
"زیروبم"
"شیشے کے پیرہن"
"خوشبو کا سفر"
"غزلیہ"
"ادبیات سرحد"
"پشتو کے لوک گیت"
"سرحد کے لوک گیت"
"باچا خان"
"پشتو شاعری"
"رحمان بابا کے افکار"
"جرأت عاشقاں"
فارغ بخاری کو ان کی ادبی اور ثقافتی خدمات کے لئے حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔ فارغ بخاری ۱۳، اپریل، ۱۹۹۷ء کو پشاور، پاکستان میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں