مولانا سید شاہ معزالدین قادری ملتانی

مولانا سید شاہ معزالدین قادری ملتانی کے زندگی کے آخری ایام

مولانا معز علیہ رحمہ کے سینکڑوں تلامذہ آج بھی پوری دنیا میں اپنی علمی ادبی روشنی سے دنیا کو روشن کر رہے ہیں، آپ کی فیاضانہ روش نے ملک الشعرآء حضرت اوج یعقوبی کی ہی طرح کئی شاعروں کو نامور و معروف شعراء کی صف میں لا کھڑا کردیا تھا، مشاعرے طرحی ہوں یا غیر طرحی، ہر مشاعرے میں ہر طرح میں جب آپ اپنا کلام پیش کرتے تو سامعین پر یہ انکشاف بھی ہوتا کہ کلام شاعر بزبان شاعر کے حقیقی معنی کیا ہوتے ہیں، فن تاریخ گوئی میں تو آپ علیہ رحمہ کا کوئی ثانی آج تک بھی مجھے نظر نہیں آتا۔ کئی نعتوں اور مناقبتوں میں اگر 10 شعر ہوں تو آپ نے ہر مصرعہ میں تاریخ نکالی ہیے جو کہ اپنی مثال آپ ہے، حیدرآباد دکن و قریبی اضلاع میں کئی ایک آستانوں، درگاہوں، عاشورخانوں مساجد پر آپ کی نکالی ہوئی تاریخی قطعات و رباعیات آج بھی پتھر کی تختیوں پر کنندہ نظر آتی ہیں جو کہ آپ کے آعلی علمی وادبی معیار کی داستاں بیان کرتی ہیں،
28/ جون 1987ء کو آپ علیہ رحمہ نے اس دنیا فانی سے پردہ فرمالیا۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے بفضلہ تعالی اور بہ وسیلہ رحمت عالمﷺ حضرت معز ملتانی کا فیضان آج بھی جاری ہے اور طالبان حق اس سے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں