عبد الحئی صاحب کے ابتدائی حالات زندگی
پورا نام : عبد الحئی
تخلص : ساحر لدھیانوی
تاریخ ولادت : 08/مارچ 1921 لدھیانہ متحدہ ہندوستان
تاریخ وفات : 25/اکتوبر 1980 ممبئی بھارت
ساحر لدھیانوی کا اصلی نام عبد الحئی تھا۔ وہ ۸؍ مارچ ۱۹۲۱ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اسی لیے لدھیانوی کہلائے۔ ان کے والد چودھری فضل محمد کا شمار شہر کے معروف اور معزز لوگوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اولاد نرینہ کی خواہش میں یکے بعد دیگرے گیارہ شادیاں کیں۔ ساحرؔ کی والدہ سرور بیگم سے ان کی شادی خفیہ تھی۔ اخفا کی وجہ یہ تھی کہ ساحرؔ کی والدہ کو وہ خاندانی لحاظ سے اپنے ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے۔ اور اسے اپنے سماج ورتبے سے کم تر خیال کرتے تھے کہ ان سے علی الاعلان رشتہ ازدواج قائم کر لیں۔ ساحرؔ کی پیدا ئش کے بعد ساحرؔ کی والدہ نے اپنے اور بیٹے کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنی شروع کردی۔ بالآخر جب ان کی فریاد کی سنوائی کہیں نہ ہوئی تو وہ اپنی فریاد لے کر عدالت کے دروازے پر جا پہنچیں۔ بہر حال ساحرؔ کے والدین کی مقدمہ بازی تقسیم ملک تک جاری رہی۔ اس دوران اپنے والد کی شفقت سے محروم تنہا والدہ کی سر پرستی میں ساحر کی پرورش ان کے نانیہال ہی میں ہوئی۔ جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا۔ یہیں سے انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔ ۱۹۳۹ء میں اسکول پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔ اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کر دی تھی انہوں نے مالوہ خالصہ اسکول سے انٹرنس پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں دا خلہ لیا۔ اس سے پہلے ان کی سیاسی سرگرمیوں کا آ غاز ہو چکا تھا۔ ساحر ؔکے والد انگریزی حکو مت کے وفادار تھے لیکن انگریزی حکومت ساحرؔ کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ انٹر کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور لدھیانہ سے لاہور منتقل ہوگئے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں ساحرؔ کی والدہ جنہوں نے انہیں بڑے لاڑ پیار سے پالا تھا کہیں گم ہو گئیں۔ ساحرؔ کے لیے یہ حا دثہ بہت الم ناک تھا بہر حال تلاش بسیار کے کافی عرصہ بعد مل گئیں۔ ساحرؔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اس طرح ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ پاکستان کے ماحول میں اپنے آپ کو موزوں نہیں پاتے۔ اسی وجہ سے وہ راتوں رات ہندوستان واپس آگئے۔ اور اپنی عمر کے آخر تک ہندوستان ہی میں رہے۔ بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی اک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوے اور کالج سے نکالےگئے۔ وہ کالج سے
بی- اے نہیں کر سکے لیکن اس کالج کی اسی رومانی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔ ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں" ۱۹۴۴ء میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہو گیا وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف " کے ایڈیٹر بن گئے بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی۔ ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے۔ جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی۔ دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کا مظاہرہ وہ وقتا فوقتا کرتے رہتے تھے۔ ساحرکی شاعری معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف وہ پُکار اور توانا آواز تھی جسے ہردِل نے اپنی کہانی سمجھا، عوامی جذبات کو جب لفظوں کی صورت میں ساحر نے ڈھالا تو ’’تلخیاں‘‘، ’’پر چھائیاں“، ’’آؤ کہ خواب بُنیں‘‘ اور ”اور گاتا جائے بنجارہ ‘‘ کی صورت میں بے مثال شاعری سامنے آئی۔ تاج محل ’’چکلے، شہکار، کبھی کبھی‘‘ اِن جیسی دیگر کئی نظمیں جو اُردو ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں۔
اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بے کار تمنائوں پہ شرمندہ ہوں
اپنی بے سود اُمیدوں پہ ندامت ہے مجھے
’’جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں‘‘
کے مصداق، آزادی، مساوات، انصاف اور انسانیت کے لئے ساحر زندگی بھرلڑتا رہا آواز بلند کرتا رہا، وہ ہمیشہ مردِ مجاہد رہا، وہ ظلم کے خلاف لکھتا رہا۔ ساحر نے سماج کے اُن تاریک پہلوئوں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا جو انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ ساحر کی شاعری محض خیالات کی ترسیل، عقائد کی تبلیغ اور سیاسی پروپیگنڈے کے لئے نہیں، بلکہ اُنہوں نے اپنے محسوسات اور جذبات کی صورت گری کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ ساحر لدھیانوی نے تشبیہ، استعارہ اور کنائے کی زبان استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اظہار کرنے کے بیانیہ اور خطیبانہ پیرایوں سے بھی کام لیا۔ اس کی روح ہمیشہ محبت کی پیاسی رہی۔ ساحر نے اس محرومی کو ختم کرنے کے لئے امرتا پریتم سے لیکر سدھا ملہوترا تک متعدد عشق کئے مگر مستقل روحانی سکون اُنہیں میسر نہ آ سکا۔
تخلص : ساحر لدھیانوی
تاریخ ولادت : 08/مارچ 1921 لدھیانہ متحدہ ہندوستان
تاریخ وفات : 25/اکتوبر 1980 ممبئی بھارت
ساحر لدھیانوی کا اصلی نام عبد الحئی تھا۔ وہ ۸؍ مارچ ۱۹۲۱ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اسی لیے لدھیانوی کہلائے۔ ان کے والد چودھری فضل محمد کا شمار شہر کے معروف اور معزز لوگوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اولاد نرینہ کی خواہش میں یکے بعد دیگرے گیارہ شادیاں کیں۔ ساحرؔ کی والدہ سرور بیگم سے ان کی شادی خفیہ تھی۔ اخفا کی وجہ یہ تھی کہ ساحرؔ کی والدہ کو وہ خاندانی لحاظ سے اپنے ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے۔ اور اسے اپنے سماج ورتبے سے کم تر خیال کرتے تھے کہ ان سے علی الاعلان رشتہ ازدواج قائم کر لیں۔ ساحرؔ کی پیدا ئش کے بعد ساحرؔ کی والدہ نے اپنے اور بیٹے کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنی شروع کردی۔ بالآخر جب ان کی فریاد کی سنوائی کہیں نہ ہوئی تو وہ اپنی فریاد لے کر عدالت کے دروازے پر جا پہنچیں۔ بہر حال ساحرؔ کے والدین کی مقدمہ بازی تقسیم ملک تک جاری رہی۔ اس دوران اپنے والد کی شفقت سے محروم تنہا والدہ کی سر پرستی میں ساحر کی پرورش ان کے نانیہال ہی میں ہوئی۔ جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا۔ یہیں سے انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔ ۱۹۳۹ء میں اسکول پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔ اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کر دی تھی انہوں نے مالوہ خالصہ اسکول سے انٹرنس پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں دا خلہ لیا۔ اس سے پہلے ان کی سیاسی سرگرمیوں کا آ غاز ہو چکا تھا۔ ساحر ؔکے والد انگریزی حکو مت کے وفادار تھے لیکن انگریزی حکومت ساحرؔ کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ انٹر کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور لدھیانہ سے لاہور منتقل ہوگئے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں ساحرؔ کی والدہ جنہوں نے انہیں بڑے لاڑ پیار سے پالا تھا کہیں گم ہو گئیں۔ ساحرؔ کے لیے یہ حا دثہ بہت الم ناک تھا بہر حال تلاش بسیار کے کافی عرصہ بعد مل گئیں۔ ساحرؔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اس طرح ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ پاکستان کے ماحول میں اپنے آپ کو موزوں نہیں پاتے۔ اسی وجہ سے وہ راتوں رات ہندوستان واپس آگئے۔ اور اپنی عمر کے آخر تک ہندوستان ہی میں رہے۔ بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی اک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوے اور کالج سے نکالےگئے۔ وہ کالج سے
بی- اے نہیں کر سکے لیکن اس کالج کی اسی رومانی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔ ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں" ۱۹۴۴ء میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہو گیا وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف " کے ایڈیٹر بن گئے بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی۔ ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے۔ جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی۔ دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کا مظاہرہ وہ وقتا فوقتا کرتے رہتے تھے۔ ساحرکی شاعری معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف وہ پُکار اور توانا آواز تھی جسے ہردِل نے اپنی کہانی سمجھا، عوامی جذبات کو جب لفظوں کی صورت میں ساحر نے ڈھالا تو ’’تلخیاں‘‘، ’’پر چھائیاں“، ’’آؤ کہ خواب بُنیں‘‘ اور ”اور گاتا جائے بنجارہ ‘‘ کی صورت میں بے مثال شاعری سامنے آئی۔ تاج محل ’’چکلے، شہکار، کبھی کبھی‘‘ اِن جیسی دیگر کئی نظمیں جو اُردو ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں۔
اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بے کار تمنائوں پہ شرمندہ ہوں
اپنی بے سود اُمیدوں پہ ندامت ہے مجھے
’’جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں‘‘
کے مصداق، آزادی، مساوات، انصاف اور انسانیت کے لئے ساحر زندگی بھرلڑتا رہا آواز بلند کرتا رہا، وہ ہمیشہ مردِ مجاہد رہا، وہ ظلم کے خلاف لکھتا رہا۔ ساحر نے سماج کے اُن تاریک پہلوئوں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا جو انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ ساحر کی شاعری محض خیالات کی ترسیل، عقائد کی تبلیغ اور سیاسی پروپیگنڈے کے لئے نہیں، بلکہ اُنہوں نے اپنے محسوسات اور جذبات کی صورت گری کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ ساحر لدھیانوی نے تشبیہ، استعارہ اور کنائے کی زبان استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اظہار کرنے کے بیانیہ اور خطیبانہ پیرایوں سے بھی کام لیا۔ اس کی روح ہمیشہ محبت کی پیاسی رہی۔ ساحر نے اس محرومی کو ختم کرنے کے لئے امرتا پریتم سے لیکر سدھا ملہوترا تک متعدد عشق کئے مگر مستقل روحانی سکون اُنہیں میسر نہ آ سکا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں