جون ایلیا

 جون ایلیا کے حالات زندگی

میرٓ و غالبٓ کو ٹوکتا ہوں میں
سن رکھو جون ایلیاء ہوں میں

پورا نام : سید جون اصغر نقوی
تخلص : جونٓ ایلیاء
،ولادت : 14/ دسمبر 1934ء امروہہ اترپردیش بھارت
وفات : 08/ نومبر 2002ء کراچی پاکستان

جون ایلیا ایک ساتھ شاعر، صحافی، مفکر، مترجم، نثر نگار، دانشور بہت کچھ تھے۔ وہ 14/دسمبر 1934ء کو بھارت کی ریاست اترپردیش کے امروہہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید جون اصغر تھا، جون کی شاعری نے نہ صرف اپنے زمانے میں زبان و بیان کے معیار متعین کئے بلکہ آنے والی نئی نسل نے بھی ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جون ایلیا نے اپنی شاعری میں عشق کی نئی جہات کا سراغ بھی لگایا۔ جون کمیونسٹ ہونے کے باوجود فن برائے فن کے قائل تھے۔ انہوں نے رومانی شاعری سے دامن بچاتے ہوئے، تازہ بیانی کے ساتھ دلوں میں اتر جانے والی عشقیہ شاعری کی۔ جون ایلیا کی شاعری کے مزاج کا انداز ان کی اس تحریر سے بھی لگایا جا سکتا ہے وہ کہتے ہیں "میں اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے میں عجیب طرح ہنس پڑا جب میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اس بے محل ہنسی کے بعد میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا۔آٹھ برس کی عمر میں میں نے پہلا عشق کیا اور پہلا شعر کہا۔"
جون ایلیا کو بچپن میں ہی عشق ہو گیا تھا۔ جس کے متعلق انہوں نے خود اس کا ذکر بھی کیا تھا اور اپنی مصنوعی معشوقہ کے نام خطوط بھی لکھا کرتے تھے۔ نوجوانی کی عمر میں جب ایک دوشیزہ سے عشق کیا تو کبھی اظہار محبت نہ کر سکے۔ اس کے بعد ان کی ملاقات مشہور صحافی اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔ سنہ 1970ء میں دونوں نے شادی کر لی زاہدہ حنا نے ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی اور وہ ان کے ساتھ خوش بھی رہے لیکن دونوں کے مزاجوں کے فرق نے دھیرے دھیرے اپنا رنگ دکھایا۔ یہ دو اناوؤں کا ٹکراؤ تھا اور دونوں میں سے ایک بھی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ آخر تین بچوں کی پیدائش کے بعد دونوں الگ ہو گئے۔ زاہدہ حنا سے علیحدگی جون کے لئے بڑا صدمہ تھی۔ عرصہ تک وہ نیم تاریک کمرے میں تنہا بیٹھے رہتے تھے۔ سگریٹ اور شراب کی کثرت نے ان کی صحت بہت خراب کر دی، ان کے دونوں پھیپھڑے بیکار ہو گئے۔ وہ خون تھوکتے رہے لیکن شراب نوشی سے باز نہیں آئے 08/ نومبر 2002ء کو کراچی میں ان کی موت ہو گئی۔ زاہدہ سے الگ ہونے کے بعد جون پاکستان چلے گئے تھے۔ اور شاعری کے افق پر چھا سے گئے تھے۔ ان کا انداز بیان لوگ خوب پسند کرتے تھے اور مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت جون ایلیا کو مانا جانے لگا تھا۔ جون کے شعری مجموعے شاید، یعنی، لیکن، گمان، گویا اور راموز کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں، جون کی شاعری نے نہ صرف اپنے زمانے میں زبان و بیان کے معیار متعین کئے بلکہ آنے والی نئی نسل نے بھی ان سے خوب فائدہ اٹھایا انہوں نے اپنی شاعری میں عشق کی نئی جہات کا سراغ بھی لگایا، حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 2000ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائےحسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں