علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے حالات زندگی
اقبال دنیائے عالم کی قدآور، بلند و بالا اور عظیم شخصیت کا نام ہے۔ اقبال کی شاعری، نثر نگاری، سیاسی بصیرت، ریاست کا فلسفہ، نوجوانوں میں بیداری کا تصور، اسلام کے بہترین شارح ان کی ایسی منفرد خصوصیات ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہی صفات و امتیازی وصف انہیں دیگر سے ممتاز کرتا ہے۔ شاعر مشرق نے پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں 9 نومبر 1877ء میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد شیخ نور محمد مذہبی انسان تھے معمولی تعلیم تھی، والدہ محترمہ امام بی بی خاموش طبع اور نرم دل خاتون تھیں۔ ان کا انتقال 9 نومبر 1914ء کو ہوا۔ ان کے والد کا انتقال 1930ء میں ہوا۔ اقبال کی شخصیت سازی میں ان کے والدین کا بنیادی کردار رہا۔ اقبال نے اپنی ماں کے لیے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار اس طرح کیا:
یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبہ میں دعاوں سے فضا معمور ہے
مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا!
نُور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو ترا!
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!
سبزہ نور ستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے
اقبال کی تعلیم کا نقطہ آغاز دینی مدرسہ تھا، مولانا ابو عبدﷲ غلام حسن اور شیخ نور محمد سے کلام مجید پڑھا، پھر اقبال جدید تعلیم کے حصول کے لیے مولانا میر حسن کے سپرد کردیے گئے۔ مولانا میر حسن کے مکتب میں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھنا شروع کیا۔ اب اقبال کو "اسکاچ مِشن اسکول" میں داخل کر دیا گیا جہاں پر باقاعدہ جدید تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اقبال کی تعلیم و تربیت میں میر حسن کی تربیت کا بہت بڑا دخل ہے جو سر سید احمد خان کے علم و عمل تعلیم کے حوالے سے جدید نظریات کے حامی بھی تھے۔ استاد کے دل میں سر سید اور علی گڑھ تحریک کی جو قدر و عظمت تھی وہ شاگرد کے دل میں بھی پیدا ہوگئی۔ سر سید کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی اقبال میں پیدا ہوچکا تھا۔ اقبال نے 16 برس کی عمر میں میٹرک پاس کرلیا، ساتھ ہی وہ خاندانی رسم و رواج کے مطابق دولھا بھی بن گئے اور ان کی شادی 1893ء میں کریم بی بی سے ہوئی، ان سے اقبال کے دو بچے ہوئے۔ بیٹی معراج بی بی 1896ء میں اور آفتاب اقبال 1898ء پیدا ہوئے۔ علامہ اقبال کی یہ پہلی شادی تھی۔ اس وقت علامہ کی عمر 16 برس اور کریم بی بی 19 برس کی تھیں۔ دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات کشیدہ رہے۔ بیٹی 19 سال کی عمر 1915ء میں ﷲ کو پیاری ہوگئیں۔ آفتاب اقبال اپنے والد سے خوش نہ تھے۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہے۔ کریم بی بی بھی علامہ سے خوش نہ تھیں لیکن طلاق کی خواہش مند نہ تھیں، علامہ نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے، ان کے ساتھ انصاف سے کام لیا۔ جسٹس جاوید اقبال کے مطابق "علامہ کی دوسری شادی 1913 ء میں مختار بیگم سے ہوئی، ان کا تعلق جالندھر کے نو لکھا خاندان سے تھا، ابتدا میں ان سے بھی علامہ کے تعلقات بہت خوش گوار نہ تھے، غلط فہمیاں تھیں جب وہ دور ہوگئیں تو وہ علامہ کے ساتھ رہیں۔ اس نکاح سے قبل علامہ کی شادی سردار بیگم سے ہوچکی تھی جن کا تعلق لاہور کے ایک کشمیری خاندان سے تھا۔ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال انہی کے فرزند ارجمند تھے۔ 1924ء میں زچگی کے دوران مختار بیگم کا انتقال ہوگیا۔ علامہ اقبال نے ان کی نماز جنازہ خود پڑھائی۔ علامہ اقبال نے اپنی تینوں بیویوں کریم بی بی، مختار بیگم اور سردار بیگم میں سے کسی کو بھی طلاق نہیں دی، تعلقات کشیدہ ضرور رہے۔
علامہ نے انٹر گورنمنٹ مرے کالج سے کیا اور بی اے لاہور کے گورنمنٹ ڈگری کالج سے 1897ء میں کیا۔ انگریزی کے استادوں میں حامد شاہ، جب کہ اقبال نے سوامی رام تیرتھ سے سنسکرت سیکھی۔ اب اقبال شاعری کی جانب باقاعدہ راغب ہوچکے تھے۔ ان کے استاد میر حسن نے اقبال میں شعر و شاعری کا ذوق بھی پیدا کردیا تھا۔ فلسفہ میں ماسٹرز کیا، یہاں سر تھامس آرنلڈ ان کے استاد تھے۔ ماسٹرز کرنے کے بعد اقبال نے تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ پہلے اورینٹل کالج لاہور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی اور فلسفہ کے استاد رہے۔ 1905ء تک اقبال تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر ٹرینٹی کالج کیمرج میں تعلیم حاصل کی، جہاں پر انہیں پروفیسر براؤن اور سارلی کی سرپرستی ملی اور انہوں نے ان دونوں اساتذہ سے فیض حاصل کیا، اسی دوران اقبال جرمنی چلے گئے۔ وہاں انہوں نے میونخ یونیورسٹی اپنے تحقیقی مقالے ”ایران میں مابعد از طبعیات کا ارتقاء“ کے موضوع پر مقالہ لکھا جس پر وہ پی ایچ ڈی کی ڈگری سے فیض یاب ہوئے۔ 1908ء میں برطانیہ کے کالج "لنکز اِن" سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ لندن یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہوگئے، جہاں ان کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر
آرنلڈ تھے۔ لندن میں قیام مختصر رہا جلد وطن واپس آگئے اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔
1924ء میں سردار بیگم کے بطن سے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال پیدا ہوئے۔ جسٹس جاوید اقبال شاعر مشرق کی بڑھاپے کی اولاد تھے، ساتھ ہی مرادوں اور منتوں کے نتیجے میں انہیں ملے تھے۔ اولادِ نرینہ کی خواہش لیے علامہ اقبال سرہند تشریف لے گئے اور شیخ احمد (حضرت مجدد الف ثانی) کے مزار پر منت مانی، یہ بھی التجا کی اگر ان کی مراد پوری ہوئی اور ﷲ پاک نے انہیں بیٹا عطا کیا تو وہ اسے لے کر اسی جگہ حاضر ہوں گے۔ کہتے ہیں انسان کی زندگی میں بعض گھڑیاں قبولیت کی ہوتی ہیں۔ اﷲ نے ان کی دعا قبول کی اور جاوید اقبال کی صورت میں بیٹا عطا کردیا۔ تو علامہ اپنے اس بیٹے کو سرہند مجدد الف ثانی کے مزار پر لے کر گئے، اس واقعہ کا ذکر جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب "زندہ رُود" میں کیا ہے۔ یہ کتاب علامہ اقبال کے حالات زندگی پر ایک مستند تحقیقی تصنیف تصور کی جاتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے جاوید علامہ اقبال کے چہیتے اور لاڈلے بھی تھے۔ علامہ اقبال کا انتقال ہوا تو جاوید اقبال 13برس کے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے قمر الاسلام کو "جاویداقبال" بنا دیا اور وہ ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید کر دیا۔ اپنے چہیتے بیٹے کے لیے علامہ اقبال نے ایسی نظم کہی جو بظاہر تو خطاب جاوید اقبال سے تھا لیکن یہ خطاب محض جاوید اقبال سے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے نوجوانوں سے ہے۔ علامہ نے اپنے فرزند جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
اقبال کی شاعری محض انسانی عمل نہیں بلکہ اس میں ان کے اندر موجود شاعر کی آواز محسوس ہوتی ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک شاعر اور فلسفی پیدا ہوئے ۔ "مخزن" کے سابق مدیر شیخ عبدالقادر نے لکھا کہ "غالب اور اقبال میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اﷲ خان غالب کو اُردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا، اس نے اُن کی روح کو عدم میں جاکر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کسی جسد خاکی میں جلوہ افروز ہوکر شاعری کے چمن کی آبیاری کرے، اور اُس نے پنجاب کے ایک گوشے میں جسے سیالکوٹ کہتے ہیں، دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبال نام پایا۔" اقبال نے غالب کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے غالب کو جرمن شاعر "گوئٹے" کا ہم منصب قرار دیا۔ بانگِ درا میں اقبال نے "مرزا غالب" کے عنوان سے نظم کہی جو غالب کو خراج تحسین بھی ہے اور اسی نظم کے ایک شعر میں اقبال نے غالب کو جرمن شاعر "گوئٹے" کا ہم نوا قرار دیا اور جرمنی کے اس شہر کا ذکر کیا جہاں گوئٹے دفن ہے۔ اقبال کی اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
فکرِ انسان پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کُجا
تھا سراپا روح تُو، بزم سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہا بھی رہا
آہ! تُو اُجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آب دار ایسا بھی ہے
"ویمر" جرمنی کا وہ شہر ہے جس میں معروف جرمن شاعر "گوئٹے" مدفون ہے۔ اردو زبان کو غالب کے ساتھ ساتھ شاعر مشرق علامہ اقبال پر بھی فخر ہے۔ اقبال ان شاعروں میں سے ہیں کہ جنہوں نے شاعری برائے شاعری نہیں کی بلکہ ان کی شاعری میں فلسفہ و حکمت کے مشکل و پیچیدہ اور خشک مسائل کو اشعار کا جامہ پہنا یا گیا ہے۔ اقبال کا اردو کلام بیسویں صدی کے آغاز سے کچھ پہلے شروع ہوتا ہے۔ اقبال کی شاعری محض شعر و سخن کا شاہکار ہی نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کو درست سمت لے جانے، اسے جھنجوڑ نے کا خوبصورت ذریعہ ہے۔ اقبال نے قدیم و مشکل اصطلاحات و تلمیحات کے لب و لہجہ کو صحیح رخ میں ڈھالا۔ اقبال کی بعض بعض نظمیں اقبال کے فلسفہ حیات کی آئینہ دار ہیں۔ ان میں "ساقی نامہ" اور "مسجد قرطبہ" خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کے بقول "اقبال شاعری میں موضوعات کے اعتبار سے تنوع، وسعت اور ہمہ گیری ہے لیکن وہ بنیادی طور پر عظمت انسانی اور انسانیت کے شاعر ہیں۔ ان کے تمام افکار و خیالات اسی انسان اور انسانیت کے مختلف انفرادی اور اجتماعی معاملات و مسائل کے گرد گھومتے ہیں۔" برصغیر پاک و ہند کا کوئی شاعر، ادیب، فلسفی، دانشور، علم و حکمت رکھنے والا کوئی شخص ایسا ہوگا جس نے اقبال کو خوبصورت الفاظ میں خراج عقیدت پیش نہ کیا ہو۔ اقبال کے بے شمار اشعار ضرب المثل ہیں۔
بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق کا کہنا تھا کہ "علامہ اقبال کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شُعراء اور مفکرین میں کیا جاتا ہے۔ اُن کی حیات ہی میں انہیں "شاعر مشرق" کہا جانے لگا۔" ای ایم فاسٹر کا کہنا ہے کہ "یہ بھی ہمارے شہنشاہانہ طرزِ حکومت کا ایک کرشمہ ہے کہ اقبال جیسا شاعرِ جس کا نام گزشتہ دس برس سے اُس کے ہم وطن مسلمانانِ ہند میں بچے بچے کی زبان پر ہے، اُس کے کلام کا ترجمہ اس قدر عرصے کے بعد جاکر ہماری زبان میں ہوسکے۔ ہندُوؤں میں جو مرتبہ ٹیگور کو حاصل ہے وہی مسلمانوں میں اقبال کو ہے اور زیادہ صحیح طور پر ہے۔ اس لیے کہ ٹیگور کو بنگال سے باہر اس وقت تک کسی نے نہ پوچھا جب تک وہ یورپ جاکر نوبل پرائز نہ حاصل کر لائے۔ برخلاف اس کے اقبال کی شہرت یورپ کی اِعانت سے بالکل مُسَتثنیٰ ہے۔"
اللہ تعالیٰ اسلام کے ترجمان اور شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ پر رحم فرمائیں۔
یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبہ میں دعاوں سے فضا معمور ہے
مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا!
نُور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو ترا!
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!
سبزہ نور ستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے
اقبال کی تعلیم کا نقطہ آغاز دینی مدرسہ تھا، مولانا ابو عبدﷲ غلام حسن اور شیخ نور محمد سے کلام مجید پڑھا، پھر اقبال جدید تعلیم کے حصول کے لیے مولانا میر حسن کے سپرد کردیے گئے۔ مولانا میر حسن کے مکتب میں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھنا شروع کیا۔ اب اقبال کو "اسکاچ مِشن اسکول" میں داخل کر دیا گیا جہاں پر باقاعدہ جدید تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اقبال کی تعلیم و تربیت میں میر حسن کی تربیت کا بہت بڑا دخل ہے جو سر سید احمد خان کے علم و عمل تعلیم کے حوالے سے جدید نظریات کے حامی بھی تھے۔ استاد کے دل میں سر سید اور علی گڑھ تحریک کی جو قدر و عظمت تھی وہ شاگرد کے دل میں بھی پیدا ہوگئی۔ سر سید کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی اقبال میں پیدا ہوچکا تھا۔ اقبال نے 16 برس کی عمر میں میٹرک پاس کرلیا، ساتھ ہی وہ خاندانی رسم و رواج کے مطابق دولھا بھی بن گئے اور ان کی شادی 1893ء میں کریم بی بی سے ہوئی، ان سے اقبال کے دو بچے ہوئے۔ بیٹی معراج بی بی 1896ء میں اور آفتاب اقبال 1898ء پیدا ہوئے۔ علامہ اقبال کی یہ پہلی شادی تھی۔ اس وقت علامہ کی عمر 16 برس اور کریم بی بی 19 برس کی تھیں۔ دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات کشیدہ رہے۔ بیٹی 19 سال کی عمر 1915ء میں ﷲ کو پیاری ہوگئیں۔ آفتاب اقبال اپنے والد سے خوش نہ تھے۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہے۔ کریم بی بی بھی علامہ سے خوش نہ تھیں لیکن طلاق کی خواہش مند نہ تھیں، علامہ نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے، ان کے ساتھ انصاف سے کام لیا۔ جسٹس جاوید اقبال کے مطابق "علامہ کی دوسری شادی 1913 ء میں مختار بیگم سے ہوئی، ان کا تعلق جالندھر کے نو لکھا خاندان سے تھا، ابتدا میں ان سے بھی علامہ کے تعلقات بہت خوش گوار نہ تھے، غلط فہمیاں تھیں جب وہ دور ہوگئیں تو وہ علامہ کے ساتھ رہیں۔ اس نکاح سے قبل علامہ کی شادی سردار بیگم سے ہوچکی تھی جن کا تعلق لاہور کے ایک کشمیری خاندان سے تھا۔ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال انہی کے فرزند ارجمند تھے۔ 1924ء میں زچگی کے دوران مختار بیگم کا انتقال ہوگیا۔ علامہ اقبال نے ان کی نماز جنازہ خود پڑھائی۔ علامہ اقبال نے اپنی تینوں بیویوں کریم بی بی، مختار بیگم اور سردار بیگم میں سے کسی کو بھی طلاق نہیں دی، تعلقات کشیدہ ضرور رہے۔
علامہ نے انٹر گورنمنٹ مرے کالج سے کیا اور بی اے لاہور کے گورنمنٹ ڈگری کالج سے 1897ء میں کیا۔ انگریزی کے استادوں میں حامد شاہ، جب کہ اقبال نے سوامی رام تیرتھ سے سنسکرت سیکھی۔ اب اقبال شاعری کی جانب باقاعدہ راغب ہوچکے تھے۔ ان کے استاد میر حسن نے اقبال میں شعر و شاعری کا ذوق بھی پیدا کردیا تھا۔ فلسفہ میں ماسٹرز کیا، یہاں سر تھامس آرنلڈ ان کے استاد تھے۔ ماسٹرز کرنے کے بعد اقبال نے تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ پہلے اورینٹل کالج لاہور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی اور فلسفہ کے استاد رہے۔ 1905ء تک اقبال تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر ٹرینٹی کالج کیمرج میں تعلیم حاصل کی، جہاں پر انہیں پروفیسر براؤن اور سارلی کی سرپرستی ملی اور انہوں نے ان دونوں اساتذہ سے فیض حاصل کیا، اسی دوران اقبال جرمنی چلے گئے۔ وہاں انہوں نے میونخ یونیورسٹی اپنے تحقیقی مقالے ”ایران میں مابعد از طبعیات کا ارتقاء“ کے موضوع پر مقالہ لکھا جس پر وہ پی ایچ ڈی کی ڈگری سے فیض یاب ہوئے۔ 1908ء میں برطانیہ کے کالج "لنکز اِن" سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ لندن یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہوگئے، جہاں ان کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر
آرنلڈ تھے۔ لندن میں قیام مختصر رہا جلد وطن واپس آگئے اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔
1924ء میں سردار بیگم کے بطن سے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال پیدا ہوئے۔ جسٹس جاوید اقبال شاعر مشرق کی بڑھاپے کی اولاد تھے، ساتھ ہی مرادوں اور منتوں کے نتیجے میں انہیں ملے تھے۔ اولادِ نرینہ کی خواہش لیے علامہ اقبال سرہند تشریف لے گئے اور شیخ احمد (حضرت مجدد الف ثانی) کے مزار پر منت مانی، یہ بھی التجا کی اگر ان کی مراد پوری ہوئی اور ﷲ پاک نے انہیں بیٹا عطا کیا تو وہ اسے لے کر اسی جگہ حاضر ہوں گے۔ کہتے ہیں انسان کی زندگی میں بعض گھڑیاں قبولیت کی ہوتی ہیں۔ اﷲ نے ان کی دعا قبول کی اور جاوید اقبال کی صورت میں بیٹا عطا کردیا۔ تو علامہ اپنے اس بیٹے کو سرہند مجدد الف ثانی کے مزار پر لے کر گئے، اس واقعہ کا ذکر جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب "زندہ رُود" میں کیا ہے۔ یہ کتاب علامہ اقبال کے حالات زندگی پر ایک مستند تحقیقی تصنیف تصور کی جاتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے جاوید علامہ اقبال کے چہیتے اور لاڈلے بھی تھے۔ علامہ اقبال کا انتقال ہوا تو جاوید اقبال 13برس کے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے قمر الاسلام کو "جاویداقبال" بنا دیا اور وہ ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید کر دیا۔ اپنے چہیتے بیٹے کے لیے علامہ اقبال نے ایسی نظم کہی جو بظاہر تو خطاب جاوید اقبال سے تھا لیکن یہ خطاب محض جاوید اقبال سے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے نوجوانوں سے ہے۔ علامہ نے اپنے فرزند جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
اقبال کی شاعری محض انسانی عمل نہیں بلکہ اس میں ان کے اندر موجود شاعر کی آواز محسوس ہوتی ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک شاعر اور فلسفی پیدا ہوئے ۔ "مخزن" کے سابق مدیر شیخ عبدالقادر نے لکھا کہ "غالب اور اقبال میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اﷲ خان غالب کو اُردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا، اس نے اُن کی روح کو عدم میں جاکر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کسی جسد خاکی میں جلوہ افروز ہوکر شاعری کے چمن کی آبیاری کرے، اور اُس نے پنجاب کے ایک گوشے میں جسے سیالکوٹ کہتے ہیں، دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبال نام پایا۔" اقبال نے غالب کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے غالب کو جرمن شاعر "گوئٹے" کا ہم منصب قرار دیا۔ بانگِ درا میں اقبال نے "مرزا غالب" کے عنوان سے نظم کہی جو غالب کو خراج تحسین بھی ہے اور اسی نظم کے ایک شعر میں اقبال نے غالب کو جرمن شاعر "گوئٹے" کا ہم نوا قرار دیا اور جرمنی کے اس شہر کا ذکر کیا جہاں گوئٹے دفن ہے۔ اقبال کی اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
فکرِ انسان پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کُجا
تھا سراپا روح تُو، بزم سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہا بھی رہا
آہ! تُو اُجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آب دار ایسا بھی ہے
"ویمر" جرمنی کا وہ شہر ہے جس میں معروف جرمن شاعر "گوئٹے" مدفون ہے۔ اردو زبان کو غالب کے ساتھ ساتھ شاعر مشرق علامہ اقبال پر بھی فخر ہے۔ اقبال ان شاعروں میں سے ہیں کہ جنہوں نے شاعری برائے شاعری نہیں کی بلکہ ان کی شاعری میں فلسفہ و حکمت کے مشکل و پیچیدہ اور خشک مسائل کو اشعار کا جامہ پہنا یا گیا ہے۔ اقبال کا اردو کلام بیسویں صدی کے آغاز سے کچھ پہلے شروع ہوتا ہے۔ اقبال کی شاعری محض شعر و سخن کا شاہکار ہی نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کو درست سمت لے جانے، اسے جھنجوڑ نے کا خوبصورت ذریعہ ہے۔ اقبال نے قدیم و مشکل اصطلاحات و تلمیحات کے لب و لہجہ کو صحیح رخ میں ڈھالا۔ اقبال کی بعض بعض نظمیں اقبال کے فلسفہ حیات کی آئینہ دار ہیں۔ ان میں "ساقی نامہ" اور "مسجد قرطبہ" خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کے بقول "اقبال شاعری میں موضوعات کے اعتبار سے تنوع، وسعت اور ہمہ گیری ہے لیکن وہ بنیادی طور پر عظمت انسانی اور انسانیت کے شاعر ہیں۔ ان کے تمام افکار و خیالات اسی انسان اور انسانیت کے مختلف انفرادی اور اجتماعی معاملات و مسائل کے گرد گھومتے ہیں۔" برصغیر پاک و ہند کا کوئی شاعر، ادیب، فلسفی، دانشور، علم و حکمت رکھنے والا کوئی شخص ایسا ہوگا جس نے اقبال کو خوبصورت الفاظ میں خراج عقیدت پیش نہ کیا ہو۔ اقبال کے بے شمار اشعار ضرب المثل ہیں۔
بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق کا کہنا تھا کہ "علامہ اقبال کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شُعراء اور مفکرین میں کیا جاتا ہے۔ اُن کی حیات ہی میں انہیں "شاعر مشرق" کہا جانے لگا۔" ای ایم فاسٹر کا کہنا ہے کہ "یہ بھی ہمارے شہنشاہانہ طرزِ حکومت کا ایک کرشمہ ہے کہ اقبال جیسا شاعرِ جس کا نام گزشتہ دس برس سے اُس کے ہم وطن مسلمانانِ ہند میں بچے بچے کی زبان پر ہے، اُس کے کلام کا ترجمہ اس قدر عرصے کے بعد جاکر ہماری زبان میں ہوسکے۔ ہندُوؤں میں جو مرتبہ ٹیگور کو حاصل ہے وہی مسلمانوں میں اقبال کو ہے اور زیادہ صحیح طور پر ہے۔ اس لیے کہ ٹیگور کو بنگال سے باہر اس وقت تک کسی نے نہ پوچھا جب تک وہ یورپ جاکر نوبل پرائز نہ حاصل کر لائے۔ برخلاف اس کے اقبال کی شہرت یورپ کی اِعانت سے بالکل مُسَتثنیٰ ہے۔"
اللہ تعالیٰ اسلام کے ترجمان اور شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ پر رحم فرمائیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں