عبد الحئی صاحب کی زندگی کے آخری ایام
"کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لیکر میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر
کتنی بے ربط تمنائوں کے مبہم خاکے اپنے خوابوں میں بسائے تھے"
ساحر نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسرے کسی بھی شاعر نے کم ہی کئے ہوں گے۔ انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے، رومانی شاعری کی ہے، نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے۔ جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔ انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے۔ انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۱۹۷۱ میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔ ۱۹۷۲ء میں مہاراشٹر حکومت نے انہیں "جسٹس آف پیس" ایوارڈ دیا۔ ۱۹۷۳ء میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں" کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ" اور "مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ" ملا۔ ۱۹۷۴ء میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں 'اسپشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ ۸/مارچ کو کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے سن 2013 میں اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ ۲۵؍ اکتو بر ۱۹۸۰ء کو ۵۹ سال کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ساحر نے اپنی زندگی میں بہت سے عروج و زوال دیکھے تھے۔ ان کی شاعری انہی جذبات کی عکاس ہے۔ اپنے شعری اثاثے میں انہوں نے ’’تلخیاں ‘‘، ’’پر چھائیاں‘‘، ’’ آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘‘ اور گیتوں کا مجموعہ’’ گاتا جائے بنجا رہ‘‘ جیسی شاعری چھوڑی ہے۔ ان کے پہلے مجمو عہ کلام ’’تلخیاں‘‘ (۱۹۴۴ء) کی اشاعت سے پہلے ہی ان کی شاعری نوجوان دلوں کی دھڑ کن بن چکی تھی آغاز ہی سے ساحر کے فن میں سماج کی فرسودہ روایات کے خلاف بغاوت کا عنصر موجود تھا۔ وہ اپنی شاعری میں سماجی کی تلخ حقیقتوں کو نئے نئے زاویوں سے پیش کرتے تھے مثلاً اپنے زمانہٴ طالب علمی ہی میں اُنہوں نے نظم "تاج محل" لکھ کر بزرگوں کی پوری نسل کو چونکا دیا تھا۔ اِس نظم میں ساحر نے شاہ جہاں کی عظمت کے گیت گانے کی بجائے اُن سینکڑوں گمنام کاریگروں اور مزدوروں کے حق میں بات کہی تھی، جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے شہنشاہ کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا تھا۔
کتنی بے ربط تمنائوں کے مبہم خاکے اپنے خوابوں میں بسائے تھے"
ساحر نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسرے کسی بھی شاعر نے کم ہی کئے ہوں گے۔ انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے، رومانی شاعری کی ہے، نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے۔ جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔ انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے۔ انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۱۹۷۱ میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔ ۱۹۷۲ء میں مہاراشٹر حکومت نے انہیں "جسٹس آف پیس" ایوارڈ دیا۔ ۱۹۷۳ء میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں" کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ" اور "مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ" ملا۔ ۱۹۷۴ء میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں 'اسپشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ ۸/مارچ کو کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے سن 2013 میں اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ ۲۵؍ اکتو بر ۱۹۸۰ء کو ۵۹ سال کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ساحر نے اپنی زندگی میں بہت سے عروج و زوال دیکھے تھے۔ ان کی شاعری انہی جذبات کی عکاس ہے۔ اپنے شعری اثاثے میں انہوں نے ’’تلخیاں ‘‘، ’’پر چھائیاں‘‘، ’’ آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘‘ اور گیتوں کا مجموعہ’’ گاتا جائے بنجا رہ‘‘ جیسی شاعری چھوڑی ہے۔ ان کے پہلے مجمو عہ کلام ’’تلخیاں‘‘ (۱۹۴۴ء) کی اشاعت سے پہلے ہی ان کی شاعری نوجوان دلوں کی دھڑ کن بن چکی تھی آغاز ہی سے ساحر کے فن میں سماج کی فرسودہ روایات کے خلاف بغاوت کا عنصر موجود تھا۔ وہ اپنی شاعری میں سماجی کی تلخ حقیقتوں کو نئے نئے زاویوں سے پیش کرتے تھے مثلاً اپنے زمانہٴ طالب علمی ہی میں اُنہوں نے نظم "تاج محل" لکھ کر بزرگوں کی پوری نسل کو چونکا دیا تھا۔ اِس نظم میں ساحر نے شاہ جہاں کی عظمت کے گیت گانے کی بجائے اُن سینکڑوں گمنام کاریگروں اور مزدوروں کے حق میں بات کہی تھی، جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے شہنشاہ کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا تھا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں